Best shayery of rahat indori । راحت اندوری کی بہترین شاعری - Mahtab azhari

Latest

Mahtab azhari

Hearty welcome to our learnable and knowledgeable Website. Our purpose is to Brings informative content to you in several languages like English. Arabic. Hindi . Urdu. Thanks for visiting

BANNER 728X90

Best shayery of rahat indori । راحت اندوری کی بہترین شاعری

  


اب نہ میں ہوں نہ باقی ہے زمانے میرے

پھر بھی مشہور ہے شھروں میں فسانے میرے

 زندگی ہے تو نئے زخم بھی مل جائینگے

اب بھی باقی ہے کئي دوست پرانے میرے


Best shayery of rahat indori । راحت اندوری کی بہترین شاعری

                                   راحت اندوری


انگلیاں یوں نہ سب پر اٹھایا کرو

خرچ کرنے سے پہلے کمایا کرو

زندگی کیا ہے خود ہی سمجھ جاؤگے

بارشوں میں پتنگیں اڑایا کرو !



پاؤں پتھر کر کے چھوڑیگی اگر رک جائے گی

چلتے رہیۓ تو زمین بھی ہمسفر ہو جائے گی 

جگنوؤں کو ساتھ لے کر رات روشن کیجیئے

راستہ سورج کا دیکھا تو صبح ہو جائے گی



اگر خلاف ہے تو ہونے دو جان تھوڑی ہے

یہ سب دھواں ہے کوئی آسمان تھوڑی ہے


لگے گی آگ تو آئینگے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہی


ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے

ہمارے منہ میں تمہاری زبان تھوڑی ہے


میں جانتا ہوں کہ دشمن بھی کم نہیں لیکن

ہماری طرح ہتھیلی پہ جان تھوڑی ہے


جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں ہونگے

کرائے دار ہیں ذاتی مکان تھوڑی ہے


سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں

کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے !




بن کے ایک حادثہ بازار میں آجائے گا

جو نہیں ہوگا وہ اخبار میں آجائیگا

چور أچکوں کی کرو قدر کہ معلوم نہیں

کون کب سرکار میں آجائے گا ! 




سفر کی حد ہے وہاں تک کے کی کچھ نشان رہے

چلے چلو کی جہاں تک یہ آسمان رہے

یہ کیا اٹھاۓ قدم کہ  آ گئی منزل

مزا تو تب ہے کہ پیروں میں کچھ تھکان رہے !



نئی ہواؤں کی صحبت بگاڑ دیتی ہے

کبوتروں کو کھلی چھت بگاڑ دیتی ہے

جو جرم کرتے ہیں اتنے برے نہیں ہوتے

سزا نہ دے کے عدالت بگاڑ دیتی ہیں ! 




ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہونگے

کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے ! 



آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو

زندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو ! 



کیا خریدو گے یہ بازار بہت مہنگا ہے

پیار کی ضد نہ کرو پیار بہت مہنگا ہے !




روز تاروں کی نمائش میں خلل پڑتا ہے

چاند پاگل ہے اندھیرے میں نکل پڑتا ہے

روز پتھر کی حمایت میں غزل لکھتے ہیں

روز شیسہ سے کوئی کام نکل پڑتا ہے



شاخوں سے ٹوٹ جائیں وہ پتے نہیں ہیں ہم

آندھی سے کوئی کہہ دے کہ اوقات میں رہے


راحت اندوری صاحب




मा बाप के मा बाप के ऊपर दिल छू लेने वाले कुछ सुनहरे अल्फ़ाज़ ऊपर दिल छू लेने वाले कुछ सुनहरे अल्फ़ाज़













No comments:

Post a Comment