آزمائش کے وقت کیا کرنا چاہئیے؟
آج کل جدھر بھی نظر دوڑائی جائے دنیا طرح طرح کے قدرتی آفات و آلام کا شکار ہے۔
مثلاً، جسمانی بیماری، مالی پریشانی، کاروباری نقصانی، عزیزوں کی جدائی، اور جنگ شکست،جیسے حوادث و پریشانیوں کی آزمائش میں ہمیں چاہئے کہ یقین ورضا، صبر و احتساب،محاسبئہ نفس، استقامت و تقویٰ، دعاء و توکل، سکنیت و اطمینان،
سے کام لینا چاہئے اللہ رب العالمین کا فرمان ہے
(فکلا أخذنا بذنبہ فمنھم من أرسلنا علیہ حاصبا و منھم من أخذتہ الصیحۃ و منھم من خسفنا بہ الأرض ومنھم من أغرقنا)
ہم نے ہر ایک کو اس گناہ کی پاداش میں پکڑلیا، ان میں سے بعض ایسے ہی۔ جن پر ہم نے آندھی بھیج دی، بعض کو چیخ نے آدبوچا، اور بعض کو ہم نے زمین میں دھنسادیا اور بعض کو ہم نے غرق کرڈالا،
یہ سب معجزات الٰہی کا ایک ادنیٰ ظہور ہے جس کے سامنے انسان کی ساری طاقتیں بے بس اور عقلیں کمزور ہوجاتی ہیں۔
جب کسی بھی قسم کی آزمائش ہوتو عقل و شعور سے کام لینا چاہئے آئے آزمائش کے وقت کون کون سے کام کو انجام دے،
یقین و رضا،
انسان کو یہ یقین تازہ کرلینا چاہئے کہ دنیا کی زندگی اور اس کی تکلیفیں عارضی ہیں اور آخرت کی زندگی اور اس کی راحتیں دائمی ہیں ہم اور ہمارے پاس جو کچھ ہے سب اللہ کا ہے جو مملوکہ چیز چیز اپنے حقیقی مالک کے پاس چلی جائے تو کیسا غم ارو کیسا افسوس کہاں کا اعتراض اور کہاں کی ناراضگی؟
اللہ تعالیٰ کا فیصلہ بھی حکمت سے خالی نہیں لیکن بسا اوقات یہ حکمت ہماری ناقص سمجھ میں نہیں آتی، ہوسکتا ہے کہ ہم کسی چیز کو ناپسند کریں حالانکہ وہ ہمارے لئے بہتر اور ممکن ہے کہ ہم کسی چیز کو پسند کریں اور وہ ہمارے لئے نقصان دہ ہوں۔
اور اگر ہم اللہ کے فیصلے پر راضی نہ ہوں تو ہم کر بھی کیا سکتے ہیں نہ مردہ کو زندہ اور نہ ہی ہوجانے والے حادثے کو پچھے لے جاسکتے ہیں۔
جب مسلمان یقین و رضا کے جذبے کے ساتھ اللہ کا ذکر کرتاہے اس کی حمدوثناء کرتا ہے قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے تو اسے وہ اطمینان و سکون حاصل ہوتا ہے جو کسی بھی شفاخانہ اور علاج گاہ میں دستیاب نہیں۔
صبر و احتحساب،
احتساب کا معنیٰ، حصولِ ثواب کی نیت۔۔۔۔۔ مومن کو مصائب و آلام پر اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھنی چاہئے کہ اگر کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان پریشانیوں کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنادیتا ہے۔
کسی بھی آزمائش پریشانی اضطرابی و مصیبت کا دوسرا علاج صبر جمیل و احتساب ہے صابرین سے اللہ محبت کرتا ہے ان کو اللہ تعالیٰ کی معیت اور نصرت حاصل ہوتی ہے مسلمانوں کو بیماری کے بعد صحت ، تنگی کے بعد خوشحالی اور شکست کے بعد فتح کی امید رکھتے ہوئے اپنی کوشش جاری رکھنی چاہئے اور یہی صبر ہے۔
صبر کم ہمتی بزدلی فرار مایوسی اور پستی سے سمجھوتہ کرلینے کا نام نہیں ہے صبر تو ہائے ویلا کئے بغیر جہد مسلسل کا نام ہے،
محاسبہء نفس،
حوادث اور امراض وغیرہ پیش آنے کی صورت میں مسلمان کو اپنی حالیہ اور گزشتہ زندگی کا محاسبہ کرنا چاہئے اور مستقبل کے عزائم پر بھی تنقیدی نظر ضرور ڈالنی چاہئے اور سے جاننے کی کوشش کرنی چاہئے کہیں یہ حوادث میرے گناہوں کا نتیجہ تو نہیں کیونکہ ہمیں قرآن یہ بتاتا ہے کہ انسانوں پر پریشانیاں اور مصیبتیں ان کے اپنے کر توتوں ہی کے وجہ سے آتی ہیں، جب اپنے گناہوں اور برے عزائم کا احساس ہوتو توبہ و استغفار میں ہر گز دیر نہ کرے کیونکہ استغفار کرنے سے اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے بارش برستی ہے مال و اولاد میں برکت ہوتی ہے رزق میں وسعت ہوتی ہے غضب الٰہی سے نجات ملتی ہے بند دروازے کھل جاتے ہیں اور زندگی کا سفر آسان ہوجاتا ہے۔
استقامت و تقویٰ،
مخالف طبع امور پیش آنے کی صورت میں مسلمان کو استقامت اور تقویٰ پر کاربند رہناچاہئے، استقامت تو اس لئے ضروری ہے کہ کارگاہ حیات میں کامیابی حاصل کرنے کا سب سے مضبوط سبب استقامت ہی ہے، اصحاب استقامت پر فرشتے اتر تے ہیں، انہیں جنت کی بشارت سناتے ہیں اور انہیں حزن اور خوف سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں، جن لوگوں میں استقامت نہیں ہوتی اور وہ معمولی پریشانیوں سے گھبراجاتے ہیں یا انہیں دین اور دنیا کے کسی بھی شعبے میں کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔
تقویٰ اس لئے ضروری ہے کیونکہ تقویٰ سعادت اور کامرانی کی کلید ہے، سورہ طلاق میں اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ تقویٰ والوں کےلئے مصائب سے نکلنے کا کوئ نہ کوئ راستہ ضرور نکال دونگا اور انہیں ایسی جگہ سے رزق دون گا جہاں سے انہیں وہم و گمان بھی نہ ہوگا۔
دعاء اور توکل،
مصائب اور حوادث میں مسلمانوں کو پانچواں کام یہ کرنا چاہئے کہ وہ خوب خشوع و خضوع کے ساتھ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو اور اس سے سلامتی اور عافیت کی دعاء کرے جیسا کہ حضرت ایوب علیہ السلام، یونس علیہ السلام، اور دیگر انبیائے علیہم السلام کا معمول رہا۔ آگ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے کسی نام کا وسیلہ اور واسطہ بنا کر دعاء کرے تو مستحب ہے۔ مثلاً رزق کی تنگی صورت میں یا رزاق، دشمنی کی طرف سے خطرہ کی صورت میں یاذہنی کمزوری کی صورت میں یا قوی وغیرہ، یو نہی اپنے کسی نیک عمل کا واسطہ دے کر بھی دعاء کرنا مستحب ہے،
دعاء کے بعد اللہ تعالٰی پر توکل کرے لیکن توکل کا مطلب ترک اسباب نہیں بلکہ جائز اسباب اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ مسبب الاسباب پر نظر رکھنا ہی توکل ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا میت کے طرف سے قربانی جائز ہے

No comments:
Post a Comment