میت کے جانب سے قربانی کا حکم
دور حاضر و ماضی میں ہر عید الاضحی کے وقت ایک مسئلہ (کیا میت کی جانب سے قربانی دی جا سکتی ہے یا نہیں؟ ) امت کے سامنے در پیش ہوتا ہے اس لیے میں نے آپ کے سامنے اس مسئلہ تحت علامہ ابن باز رحمہ اللہ کے قول کی روشنی میں واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔
موصوف رحمہ اللہ کا کہنا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اور اپنے اہل عیال کی جانب سے قربانی پیش کی ہے اور اس میں مردے اور زندے لوگوں کے بیچ تفریق نہیں کی ہے تو اس بات پر دال ہے کہ اپ کی طرف سے دی گئی قربانی میں آپ کے خاندان اور پریوار کے سبھی لوگ چاہے زندہ ہوں یا مردے کی شکل میں ہوں شامل ہیں، کیونکہ آپ نے سبھی کی جانب سے قربانی دی ہے۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث جس میں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم علیہ السلام و السلام سے ابو بردہ بن دینار نے مسئلہ دریافت کیا کہ اس نے اپنے لڑکے کی جانب سے قربانی پیش کی ہے تو آپ نے بغیر اس کے لڑکے کی تصدیق کیے ہوئے کہ وہ باحیات ہے یا فوت ہو چکا ہے اس کی جانب سے دی گئی قربانی کا اقرار کرنا اس بات کی دلیل ہے میت کی جانب سے قربانی جائز اور روا ہے، بلکہ یہ امر مشروع ہے کہ قربانی کی صورت میں میت کے حق میں ورثہ کی جانب سے صدقہ اور فقراء و مساکین کے حق میں احسان ہے لیکن زندہ کو شامل کرنا ضروری ہے اور سب سے افضل طریقہ پورے اہل خانہ کی طرف سے قربانی کرنا ہے تاکہ سارے لوگ شامل ہو جائیں۔
جس نے بھی میت کی جانب سے قربانی کا انکار کیا ہے اور عدم مشروع کا قائل ہے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے
اللہ اعلم باالصواب
No comments:
Post a Comment